لگا بندھا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - مقرر کیا ہوا، ٹھہرایا ہوا، معین۔ "کوئی ایسا لگا بندھا ضابطہ نہیں کہ ہم ضلعی مجالس کو ہدایت کر سکیں۔"      ( ١٩٨٨ء، اردو نامہ، لاہور مئی، ٤ ) ٢ - قدیم ملازم، محکوم، مطیع، فرماں بردار۔ (فرہنگ آصفیہ، علمی اردو لغت)۔ ٣ - قدیم آشنا، دوست، یار۔ "انہوں نے چپے چپے پر اپنے رشتے داروں، بہی خواہوں اور لگے بندھوں کو لگا دیا۔"      ( ١٩٣٣ء، طنزیات و مقالات، ٥٧٣ )

اشتقاق

دو سنسکرت زبان سے ماخوذ دو اسمائے صفت 'لگا' اور 'بندھا' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٨ء کو "لکچروں کا مجموعہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مقرر کیا ہوا، ٹھہرایا ہوا، معین۔ "کوئی ایسا لگا بندھا ضابطہ نہیں کہ ہم ضلعی مجالس کو ہدایت کر سکیں۔"      ( ١٩٨٨ء، اردو نامہ، لاہور مئی، ٤ ) ٣ - قدیم آشنا، دوست، یار۔ "انہوں نے چپے چپے پر اپنے رشتے داروں، بہی خواہوں اور لگے بندھوں کو لگا دیا۔"      ( ١٩٣٣ء، طنزیات و مقالات، ٥٧٣ )

جنس: مذکر